Menu Close

Humanitarian

KK Humanitarian Program Dastarkhwan at Karkhano Market, Peshawar

Date: Thursday, May 21st, 2026
Time: 12:00 AM – 2:00 PM
Food Served: Rice with Beef
Location: Karkhano Market, Peshawar
Reported by: Ahsan Naeem (Executive Associate)
Accumulative Statistics

Description Events Men Women Drug Abusers Children Transgender Total
Women Men Girls Boys
Previous 535 11105 9682 394 8815 7340 5789 3 43128
Current 1 4 0 0 52 0 4 0 60
Total Accumulative 536 11109 9682 394 8867 7340 5793 3 43188

Purpose of Dastarkhwan
To address hunger, poverty, and the growing issue of drug addiction among vulnerable communities,
Khwendo Kor (KK) continues to organise Dastarkhwan activities as part of its humanitarian and
community support initiatives. These efforts aim not only to provide food assistance but also to restore
dignity, compassion, and hope among marginalised individuals through a respectful community
engagement.
Current Dastarkhwan Activity at Karkhano Market, Peshawar
On May 21, 2026, Khwendo Kor Head Office organised a Dastarkhwan activity at Karkhano Market,
Peshawar, primarily for vulnerable individuals, including drug addicts and children involved in child
labour. The activity was conducted in a sheltered area to ensure a safe and respectful environment for
all participants.
The event formally started with the prayers to Almighty Allah, expressing gratitude for providing the
opportunity to serve humanity and support those facing difficult circumstances in society.
Initially, many of the participants appeared frightened and hesitant to approach the team, as they
assumed they were being taken to a police station or hospital due to their condition and experiences
with authorities. However, after the Khwendo Kor team interacted with them warmly and explained
that the purpose of the gathering was simply to provide them with lunch and support with dignity and
respect, they gradually became comfortable and happily joined the activity.
During interaction sessions with the participants, many individuals shared their personal struggles and
life experiences. Several participants explained that they had become addicted to drugs due to domestic
issues, emotional neglect, financial hardship, and negative influence from peer groups and bad
company. Some participants also revealed that they were often treated harshly by local authorities and
society, while a few individuals were observed with physical injuries, including broken arms and visible
health concerns.
The activity provided not only food assistance but also emotional comfort and human interaction for
people who are often neglected by society. Many participants expressed their desire to leave addiction
behind and live a better life through honest labour, employment opportunities, and proper support from
society. Their words reflected a strong need for compassion, rehabilitation, and community-based
assistance mechanisms.
A delicious rice meal was served respectfully to all participants in an organised manner with the support
of the KK team and staff members. Some participants also requested packed food parcels to take with
them for later in the day, which highlighted the seriousness of food insecurity faced by many vulnerable
individuals in the area.
At the conclusion of the activity, the participants expressed heartfelt gratitude and prayers for Khwendo
Kor, its management, staff, and the philanthropists whose generous support made the activity possible.
The event created a meaningful humanitarian impact and reinforced the importance of continuing such
compassionate initiatives for marginalised communities.

Flood Response Dated: 15-12-2022

District: DI Khan

Khwendo Kor organized distribution of Flood Relief Items including winterization kits and hygiene kits in collaboration with VEER DEVELOPMENT ORGANIZATION – VDO and Noor Edu Trust.

Distribution was done among 100 families mainly women of Kotha Leelh Gandi Umar Khan Tehsil Daraban District #DIKhan. The area was badly affected from flood, most of the houses were damaged and adversely affected the livelihoods of the people.

postImg

خیبر پختونخوا کے سیلاب زدہ علاقوں کی بحالی کے لئے 180 ارب روپے کی خطیر رقم درکار ہے

خیبر پختونخوا میں خواتین کے مسائل پر کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ‘خویندو کور’ کی ڈائریکٹر پروگرامز شازیہ حنا تقریباً چار برس قبل کوٹھہ لیلہ گئیں تو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالہ سے اس چھوٹے سے گاؤں کو انتہائی پس ماندہ پایا۔ 

لیکن اب کے وہ اس گاؤں میں گئیں تو وہاں کا منظر ہی بدل چکا تھا “ہر طرف سیلاب نے تباہی مچا رکھی تھی۔”

خیبر پختونخوا کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان سے تقریباً 60 کلومیٹر مشرق کی جانب تحصیل درابن میں گنڈھی عمر خان کے علاقے کوٹھہ لیلہ میں 70 کے قریب گھر ہیں۔ مشترکہ خاندانی نظام کی وجہ سے یہاں کی آبادی ایک ہزار سے زائد ہے یعنی ایک گھر میں ایک سے زیادہ خاندان آباد ہیں۔ 

لگ بھگ 50 سالہ شازیہ حنا کہتی ہیں کہ پورے گاﺅں میں انہیں ایک صحت مند بچہ نظر نہیں آیا، تمام لوگ انتہائی غربت اور تنگی کا شکار ہیں، امداد تو دور کی بات خواتین کے پاس پاﺅں میں پہننے کو جوتے تک نہیں ہیں۔ 

اس سال اگست کے آخری ہفتے میں کوہِ سلیمان سے آنے والے سیلابی ریلے نے اس گاﺅں کے تمام گھروں کو نقصان پہنچایا۔ کچے گھر تو پلک جھپکتے ہی سیلاب میں بہہ گئے۔ لیکن تاحال ان کی دوبارہ آباد کاری کے لئے حکومتی سطح پر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ یہ صرف ایک گاؤں کی کہانی نہیں بلکہ صوبے میں سیلاب کی زد میں آنے والے تمام علاقوں میں یہی صورتِ حال ہے۔ 

خیبر پختونخوا میں سیلاب کے باعث آنے والی تباہی کے درست اعشاریے مرتب کرنے کے لئے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ نے تمام انتظامی محکموں سے اعداد و شمار طلب کئے اور خیبر پختونخوا فلڈ رسپانس پلان 2022 کے نام سے جامع رپورٹ مرتب کی جو اس ماہ کی 8 تاریخ کو جاری کی گئی۔ 

اس رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں سیلاب کے نقصانات کی بحالی کے لئے 179 ارب 93 کرو ڑ روپے سے زائد کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ زرعی اور صنعتی شعبہ میں ہونے والے نقصانات کے ازالہ کے لئے 39 ارب 16کروڑ روپے درکار ہوں گے جبکہ جاں بحق، زخمی ہونے والوں، سیلاب سے متاثرہ گھروں، بحالی منصوبہ بندی اور پیشگی اقدامات کے لئے 35 ارب 86 کروڑ اور آب پاشی کے نظام کی بحالی کے لئے 22 ارب روپے سے زائد کا انتظام کرنا ہو گا۔

رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث خیبر پختونخوا میں چھ لاکھ 74 ہزار تین سو 18 افراد بے گھر ہوئے۔ اسی طرح 37 ہزار  پانچ سو 25 گھر مکمل طور پر جبکہ 53 ہزار نو سو 38 جزوی طور پر تباہ ہوئے۔ چھ ہزار پانچ سو 77 مویشی ہلاک ہوئے، ایک سو 7 پُل، نو سو 64 سڑکیں، ایک ہزار  چار سو 58 سکول، دو سو 56 مراکزِ صحت، ایک ہزار 93 واٹر سپلائی سکیمیں، ایک سو 72 ٹیوب ویل، دو ہزار 42 واٹر چینلز، چار سو 77 واٹر ٹینک، ایک لاکھ 7ہزار دو سو 20 ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں اور ایک ہزار  پانچ سو 75 کلومیٹر سڑکیں تباہ ہوئیں۔

رپورٹ میں فراہم کردہ محکمہ بحالی و آباد کاری کے اعداد و شمار میں تین سو چھ افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جنہیں مالی امداد کی مد میں 24 کروڑ 50 لاکھ روپے ادا کئے جائیں گے۔ اسی طرح تین سو 69 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جنہیں مجموعی طور پر سات کروڑ 40 لاکھ روپے ادا کئے جائیں گے۔ مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئے 91 ہزار چار سو 63 گھروں کی بحالی کے لئے 25 ارب 23 کروڑ 80 لاکھ روپے درکار ہیں۔ جبکہ دیگر مدوں میں بحالی کے لئے مزید 5 ارب روپے کی ضرورت ہو گی۔

اگلے چھ ماہ تک متاثرہ علاقوں میں خوراک کی فراہمی کے لئے پانچ ارب 62 کروڑ 50 لاکھ روپے درکار ہیں۔ مجموعی طور پر بحالی آپریشن اور معاوضوں کی ادائیگی پر 35 ارب 86 کروڑ 30 لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔ سیلاب کے بعد آگاہی، مستقبل کے لئے تیاری اور بحالی منصوبے کے لئے چھ ارب 79 کروڑ 20 لاکھ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ 

لائیو سٹاک اور ایک لاکھ 7 ہزار دو سو 20 ایکڑ پر کھڑی فصلوں کی تباہی، زرعی اور صنعتی شعبہ میں پہنچنے والے نقصانات کے ازالہ کے لئے 39 ارب 16 کروڑ روپے معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ 

صوبائی انرجی اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ کے مطابق لوئر کوہستان میں 17 میگاواٹ کا رانولیہ ہائیڈرو پراجیکٹ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ اسی طرح 11 اضلاع میں ایک سو 14 منی مائیکرو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ شدید متاثر ہوئے ہیں جن میں 19 مکمل تباہ جبکہ 95 میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ آٹھ اضلاع — ڈیرہ اسماعیل خان، چارسدہ، سوات، چِترال، کرک، کوہستان، لوئر دیر اور نوشہرہ — کے سکولوں اور بنیادی مراکزِ صحت میں لگائے گئے ایک سو 76 شمسی توانائی کے سسٹم بھی تباہ ہو چکے ہیں۔ اسی طرح سوات میں 36.6 میگاواٹ کا دراڑ خوڑ ہائیڈرو پراجیکٹ بھی جزوی طور پر متاثر ہوا ہے جبکہ 4.2 میگاواٹ کا ریشون چترال ہائیڈرو پراجیکٹ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ انرجی اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ کو مجموعی طور پر 23 ارب 17 کروڑ روپے درکار ہیں۔ 

رپورٹ کے مطابق محکمہ آب پاشی کو صوبے کے 24 اضلاع میں 22 ارب 38 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا ہے۔ صوبے میں ایک ہزار تین سو 66 اِریگیشن چینل اور ایک ہزار چار سو 57 حفاظتی پشتے تباہ ہوئے ہیں۔

محکمہ تعمیرات و مواصلات کے مطابق صوبے کے 31 اضلاع میں ایک ہزار پانچ سو تین کلومیٹر سڑکیں اور 96 پل تباہ ہوئے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں دو سو 26 کلومیٹر، ٹانک میں ایک سو 85 کلومیٹر، کرَک میں ایک سو 75 کلومیٹر، کوہستان میں ایک سو 50 اور سوات میں  ایک سو چھ کلومیٹر سڑکیں تباہ ہوئیں۔ ان سڑکوں کی عارضی بحالی کے لئے چار ارب 50 کروڑ 46 لاکھ 30ہزار روپے کا تخمینہ ہے جبکہ ان تمام سڑکوں کو دوبارہ تعمیر کرنا پڑے گا جس کے لئے 14 ارب 98 کروڑ 46 لاکھ 80 ہزار روپے درکار ہیں۔ 

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے مطابق صوبے میں ایک ہزار سات سو 90 سکول متاثر ہوئے ہیں جن میں ایک سو 50 مکمل جبکہ ایک ہزار چھ سو 40 جزوی طو پر تباہ ہوئے ہیں۔ ان کی بحالی کے لئے آٹھ ارب 39 کروڑ 40 لاکھ روپے درکار ہیں۔

محکمہ بلدیات کے مطابق چار سو 37 منصوبوں کی بحالی کے لئے چھ ارب 57 کروڑ 10 لاکھ روپے درکار ہوں گے جن میں تین ارب 60 کروڑ 55 لاکھ سڑکوں کی بحالی، ایک ارب 42 کروڑ 70 لاکھ سینی ٹیشن، 46 کروڑ 75 لاکھ آب رسانی، 46 کروڑ 45 لاکھ دیگر مدوں میں، 25 کروڑ 62 لاکھ ریسٹ ہاﺅسز اور 10 کروڑ 94 لاکھ پُلوں کی بحالی کے لئے درکار ہیں۔ دفاتر کی مرمت کے لئے ایک کروڑ 91 لاکھ، دکانوں کے لئے 30 لاکھ اور مذبحہ خانوں کے لئے دو کروڑ 70 لاکھ روپے درکار ہیں۔

محکمہ آب نوشی کے مطابق 16 اضلاع میں آب رسانی کی آٹھ سو 44 سکیمیں متاثر ہوئی ہیں جن کی بحالی کے لئے چار ارب 86 کروڑ روپے درکار ہیں۔ ملٹی سیکٹر ڈویلپمنٹ کے شعبہ میں چار سو 14 سکیمیں متاثر ہوئی جن کی بحالی کے لئے ایک ارب 13 کروڑ چار لاکھ 90 ہزار روپے کا انتظام کرنا ہو گا۔ 

اسی طرح محکمہ صحت کے مطابق 17 اضلاع میں ایک سو 58 مراکز صحت متاثر ہوئے ہیں ایک ارب نو کروڑ 10 لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔

ماہی پروری کی بحالی کے لئے 52 کروڑ 68 لاکھ، زرعی تحقیق کے لئے 28 کروڑ 30 لاکھ، محکمہ توسیع زراعت کے لئے چھ کروڑ 60 لاکھ 38 ہزار اور ڈائریکٹوریٹ آف لائیو سٹاک ریسرچ کے لئے چار کروڑ 77 لاکھ اور مجموعی طور پر 92 کروڑ 35 لاکھ 38ہزار روپے بحالی کے لئے درکار ہیں۔

محکمہ سیاحت و کھیل کے مطابق مجموعی طور پر 50 کروڑ 45 لاکھ روپے درکار ہوں گے جن میں آثارِ قدیمہ کو 27 کروڑ، ڈائریکٹوریٹ آف سپورٹس کو 21 کروڑ 45 لاکھ جبکہ ڈائریکٹوریٹ آف ٹورازم کو دو کروڑ روپے فراہم کرنا ہوں گے۔

تعلیم کے شعبہ میں باچا خان یونیورسٹی چارسدہ، بے نظیر بھٹو وومن یونیورسٹی اپر دِیر، یونیورسٹی آف صوابی اور نو کالجوں اور جامعات کو نقصان پہنچا ہے جن کی بحالی کے لئے 37 کروڑ 29 لاکھ 90 ہزار روپے درکار ہیں۔

صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے سُجاگ کو بتایا کہ سیلاب متاثرین کے لئے سب سے پہلے خیبر پختونخوا حکومت نے امداد کی فراہمی شروع کی ہے جو مجموعی طور پر تقریباً 30 ارب روپے بنتی ہے۔ اس سے ادائیگی شروع کر دی گئی ہے اور اب تک تقریبا چار ارب روپے سے زائد تقسیم بھی کر دئیے گئے ہیں۔یعنی ابتدائی طور پر 30 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں سے چار ارب روپے تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ 

صوبے کو تقریباً ایک سو 62 ارب روپے بحالی اور تعمیر نو کے لئے درکار ہیں اس میں 35 ارب روپے انفراسٹرکچر کے لئے ہے جو مستقبل کے لئے ہے۔ باقی رقم کی فوری ضرورت ہے جس میں اپنے بجٹ سے منتقلی اور امدادی اداروں کے منصوبوں سے رقم منتقل کرتے ہوئے 80 ارب روپے کا انتظام کرلیا گیا ہے۔ اس رقم کے منصوبے شروع کرنے میں وقت لگے گا اور تمام طریقہ کار کے تحت منصوبوں کی منظوری کے بعد اس پر کام شروع ہو جائے گا۔ 

صوبائی وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ وفاقی حکومت نے 10 ارب روپے سیلاب متاثرہ علاقوں کے لئے فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا تاہم اس میں ایک پائی تک جاری نہیں کی جا سکی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کو سیلاب متاثرہ اضلاع کی بحالی اور انفراسٹرکچر کی دوبارہ تعمیرِ نو کے لئے نصف سے زائد فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔ مجموعی طور پر صوبے کو ایک سو 79 ارب 93 کروڑ روپے میں سے تقریباً 18 ارب روپے جاری ترقیاتی منصوبوں سے نکال کر سیلاب متاثرہ علاقوں کے مجوزہ منصوبوں کی جانب منتقل کر دئیے گئے ہیں تاہم باقی مانندہ تقریباً ایک سو 62 روپے میں سے 81 ارب 50 کروڑ روپے کی کمی کے باعث صوبے کو آئندہ کئی برسوں تک بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ 

محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ خیبر پختونخوا نے سیلاب متاثرہ اضلاع کی بحالی کے لئے منصوبہ تیار کر کے اسے دسمبر کے پہلے ہفتے منظوری کے لئے متعلقہ فورم صوبائی کابینہ کو ارسال کر دیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت کو پوسٹ ڈیزاسٹر بحالی پروگرام کے لئے ایک سو 62 ارب روپے درکار ہیں جس میں انفراسٹرکچر پروگرام کے لئے مجموعی طور پر ایک سو 20 ارب روپے درکار ہوں گے۔ صوبائی حکومت مجموعی طور پر 80 ارب 50 کروڑ روپے کا بندوبست کر سکی ہے جس کی تصدیق صوبائی وزیر خزانہ نے بھی کی ہے۔ صوبے کو نصف سے بھی زائد یعنی 81 ارب 50 کروڑ روپے درکار ہیں جس کے لئے وفاقی حکومت کی مدد انتہائی ضروری ہے۔ 

postImg

ایک دن دریا سبھی دیوار و در لے جائے گا: ‘حکومت نہ تو ہمارے نقصانات کی تلافی کر رہی ہے اور نہ ہی ہمیں سیلاب سے بچانے کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے’۔

محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے ایک سو 62 ارب روپے کے مجموعی نقصانات کی بحالی میں سے فی الفور دو سالہ منصوبہ تیار کیا گیا ہے جو 77 ارب 60 کروڑ روپے سے زائد کا ہے۔ اس پلان کے تحت پہلے سال 31 ارب جبکہ دوسرے سال 46 ارب 60 کروڑ روپے درکار ہوں گے۔ 

پہلے مرحلہ کے 31 ارب روپوں کے لئے صوبائی حکومت نے انتظامی محکموں کے ترقیاتی فنڈز سے پیسے نکال کر 19 ارب روپے کا بندوبست کر لیا ہے جبکہ بین الاقوامی امدادی اداروں نے صوبائی حکومت کو سیلاب متاثرہ علاقوں کے لئے آٹھ انتظامی محکموں کو 61 ارب 50 کروڑ روپے کی مدد فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے جس کا کچھ حصہ پہلے مرحلہ میں فراہم کیاجائے گا۔

تاہم اس کے باوجود بھی صوبائی حکومت کو پہلے مرحلہ کے لئے سات ارب 70 کروڑ روپے کی کمی کا سامنا ہے۔ مجوزہ منصوبہ بندی میں بتایا گیا ہے کہ 13 شعبہ جات میں انفراسٹرکچر کی بحالی درکار ہو گی۔ صوبے کے پانچ شعبہ جات کے لئے تاحال کسی امدادی ادارے نے مدد فراہم کرنے کا وعدہ نہیں کیا ہے جن میں بلدیات، اعلیٰ تعلیم، خوراک، ملٹی سیکٹر ڈویلپمنٹ اور محکمہ مال شامل ہیں۔ 

تاریخ اشاعت 25 دسمبر 2022

Flood Response Dated: 18-10-2022

District: Dir Upper   Sheringal Valley

Maryam Bibi and her team along with village chairman visited the flood affected areas and met with flood affected families and asked their grievances and suffering caused by devastating flood.

The team also met with the Ex-Minister of SAFRON Najamuddin Khan and World Food Programme WFP Officials at Assistant Commissioner Dir Upper, discussed the flood devastation and rehabilitation of affected families and their issues especially issues related to women and children.

Khwendo Kor organized one day free medical camp in flood affected population in Sheringal Valley Dir upper Pakistan. Affected population especially women were provided with free medical checkup OPD, medicines, hygiene kits and food packages.

Free Medical Camp:

A free Medical Camp was organized for the flood affectees of surrounding villages at central Point RHC Sheringal Valley Dir upper.

Total OPD conducted of 350 patients comprising;

  1. Women = 200
  2. Children = 50 and
  3. Men = 100

Medicine provided to all patient as per doctor’s prescription, Hygiene kit were provide to Pregnant & lactating women. Women diagnosed with breast cancer symptoms were referred to Peshawar LRH for specialized treatment. Blankets were provided to old age women.

Food package distributed:

Khwendo Kor distributed 30 dry food packages among flood affectees of vulnerable locations of the surroundings in Assistant Commissioner Office premises.

Flood Response Dated: 30-08-2022

District: Nowshera Union Council Peer Sabaq

Clean drinking water, Food and Mobile Medical Camp:

Distributed food (190 packs) among the flood affectees.

Distributed clean drinking water (260) among the flood affectees.

Distributed medicine among kids and women under the custody of female medical specialists (Rescue 1122). 

Flood Response Dated: 28-08-2022

District: Nowshera Union Council Pir Khail and Lower Kheeshko
Rapid need assessment of flood vulnerability: 

Distributed clean drinking water, food and medicines to 180 flood affectees.

Dasterkhwan at Village Mathra District Peshawar (24 Nov-22)

Date:               24th of Nov, 2022 (Thursday)                   

Time:             12:00 MD

Food served:  Rice with lentils and vegetables (Local delicious rice)

Accumulated Statistics:

Description

Events Men Women Drug abusers Children

Trans Gender

Total

Women

Men

Girls

Boys

Till last 17th November 2022

186

5,138 1,879 151 2,238 2,446

1,700

1

13,563

Current

1

3- -34 84

48

169

Total Accumulative 187 5,141 1,913 151 2,238 2,530

1,748

1

13,732

Current Dastarkhwan:

This Dasterkhwan was arranged and food cooked by Mathra Viable Village Women Dasterkhwan Committee (MVVWDC) members at Deen Dunya (DD) premises. For the first time, all five MVVWDC members were present and very excited to cook and serve the food to the guest. School & EHD teachers were also very active to support them.

The food was served to the local women, learners of Elma Bibi Handicraft development center, Zoe bibi school children as well as men including DD watchman and driver. All participants were very happy to have a delicious favorite food and thankful to KK for providing this support.

Before starting Dasterkhwan, all children washed their hands in presence of their class teacher.

The Dasterkhwan was started with Duaa/prayers by all participants expressing gratitude to almighty Allah for all the blessings. All students were very excited and when they were asked about their school then they all enthusiastically raised their hands and said “they like their school very much” so again they were asked why they liked their school?

They replied the following which was very encouraging for the school staff.

  • We learn reading and writing here.
  • Our school cook food for us while other schools do nothing likes Dasterkhwan.
  • Our teachers never beat us.
  • We learn here different Duaaa, stories, and poems in different languages.
  • On every Saturday, we enjoy games with teachers.
  • Daily in circle time we share our experiences with each other.
  • On national and international days we prepare and present different tableaus on songs and poems with colorful dresses and enjoy a lot.
  • Our School often invites our mothers also and we get happy when our mothers join us in different events at school.

It was a very good social gathering for the participants, they had a very good discussion with each other.  The all food was consumed.  Jazak Allah Khair.